شمال مشرقی شام میں آپریشن کیلئے ترک فوج کی تیاریاں مکمل

ترک افواج نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں آپریشن کی تیاریاں مکمل کرلیں ہیں اور کسی بھی وقت ترک فورسز شام کے سرحدی علاقے میں داخل ہوسکتی ہیں۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردگان کے معاون کمیونی کیشن ڈائرکٹر کا کہنا ہے کہ ترک اور شامی باغی فورسز جلد شام میں آپریشن کا آغاز کریں گی۔ترک فورسز شام کی ریبل فری سیرین آرمی کے ساتھ مل کر شام کی سرحد جلد پار کریں گی، اس موقع پر ترکی نے اپنا بھاری جنگی ساز و سامان علاقے میں پہنچا دیا ہے ۔ترکی کا کہنا ہے کہ وہ شامی علاقے میں واپس جانے والوں کے لیے سیف زون قائم کرنا چاہتا ہے ۔واضح رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان 13 نومبر کو امریکہ کادورہ بھی کریں گے ۔شام کے شمال میں کردوں کی خود مختار انتظامیہ نے ملک کے شمالی اور مشرقی حصے میں تین روز کے لیے نفیر عام کا اعلان کر دیا ہے۔ کرد انتظامیہ کا یہ اقدام انقرہ کی جانب سے چہارشنبہ کو علی الصبح اس اقدام کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ شام کے شمال میں فوجی آپریشن آئندہ چند گھنٹوں میں شروع ہو جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق کردوں کی خود مختار انتظامیہ نے شام کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں 3 روز کے لیے نفیر عام کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انتظامیہ نے اپنے تمام اداروں کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ وہ ترک فورسز کا مقابلہ کرنے کے لیے متوازی سرحدی علاقے کا رخ کریں۔ کرد خود مختار انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ شام کے شمال اور مشرق میں کردوں کو پیش آنے والے کسی بھی انسانی المیے کی تمام تر اخلاقی اور جذباتی ذمہ داری اقوام متحدہ ، امریکہ، یورپی یونین، روس اور شام کے معاملے میں فیصلوں اور اثر و نفوذ رکھنے والے تمام اداروں پر عائد ہو گی۔یاد رہے کہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے چہارشنبہ کو علی الصبح بین الاقوامی اتحاد سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں فضائی حدود پر پابندی لگا دے۔ یہ مطالبہ ترکی جانب سے شام کی سرحد پر بھاری پیمانے پر عسکری کمک مع کرنے کے بعد سامنے آیا۔ اس سے قبل ترکی میں صدارتی دفتر کے ڈائریکٹر کمیونی کیشن فخر الدین التون نے چہارشنبہ کو علی الصبح اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ ترکی کی فوج “کچھ دیر بعد” شامی جیشِ حْر کے ساتھ شام کی سرحد عبور کرنے والی ہے تا کہ علاقے میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا جا سکے۔ التون نے مزید کہا کہ “وہاں موجود کرد جنگجوؤں کو اپنی وفاداریاں تبدیل کرنا ہوں گی بصورت دیگر ترکی اس بات پر مجبور ہو جائے گا کہ ان لوگوں کو داعش تنظیم کے جنگجوؤں کے خلاف انقرہ کی کوششوں میں تعطل پیدا کرنے سے روکے”۔ یاد رہے کہ ترکی کے جاسوس نگراں طیارے چہارشنبہ کو صبح سویرے سے شام کے شہر تل ابیض کی فضاؤں میں پرواز کر رہے ہیں۔ ادھر ایس ڈی ایف کے قریبی ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ترکی کا حملہ تل ابیض اور راس العین کے علاقوں سے شروع ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) کی جانب سے فضائی حدود بند کرنے کے اعلان کے باوجود وہ ترکی کے لیے کھلی رہے گی۔ واضح رہے کہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز پہلے ہی خبردار کر چکی ہیں کہ ایک “انسانی المیہ” واقع ہونے کے قریب ہے۔ ایس ڈی ایف کے ترجمان مصطفی بالی نے ٹویٹر پر جاری ایک بیان میں کہا کہ “شام میں شمال مشرقی سرحدی علاقے جلد ممکنہ انسانی المیے کے دہانے پر ہیں۔ تمام تر اشارے اس بات کا پتہ دے رہے ہیں کہ ہمارے سرحدی علاقوں کو ترکی کے حملے کا نشانہ بنایا جائے گا اور اس کارروائی میں انقرہ کو ترکی کے ہمنوا شامی مسلح گروپوں کی معاونت حاصل ہو گی”۔روس کے وزیر خارجہ سرجئی لاؤروف کا کہنا ہے کہ ماسکو شام کے شمال مشرق میں حالیہ صورت حال کے حوالے سے شامی حکومت اور کردوں کے درمیان بات چیت کی دعوت دیتا ہے۔ چہارشنبہ کے روز قازقستان کے دارالحکومت نور سلطان میں بات چیت کے بعد لاؤروف نے مزید کہا کہ شام میں کردوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں کشیدگی میں اضافے سے گریز کرنا ضروری ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے شمالی شام میں امریکی انخلا کے حوالے سے واشنگٹن کے متضاد اشاروں کے خطرات سے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ “اس سے پورا علاقہ بھڑک سکتا ہے”۔ لاؤروف کا کہنا تھا کہ علاقے میں امریکی فورسز کے انخلا کے اعلان کے بعد کردوں کو “شدید تشویش” محسوس ہو رہی ہے۔دوسری جانب شمالی شام میں کرد خود مختار انتظامیہ کے مشیر دران جیا کْرد نے چہارشنبہ کی صبح العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ “ترکی کے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم تمام آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر بین الاقوامی اتحاد کی جانب سے تساہل برتا گیا تو ہم بھرپور جواب دینے کے لیے روس اور شامی حکومت کے ساتھ رابطہ کر سکتے ہیں۔ تاہم ابھی تک ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے”۔ کرد مشیر نے دمشق اور ماسکو میں ذمے داران سے مطالبہ کیا کہ وہ ترکی کے قبضے کے حوالے سے اپنی ذمے داریاں پوری کریں جو کہ شامی اراضی کی وحدت کے لیے خطرہ ہے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے شام سے اپنی فوجیں واپس بلانے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ برائے مشرق وسطی امور اینڈریو ماریسن نے کہا کہ اگرچہ فوجی فیصلے امریکی انتظامیہ کے لیے اندرونی معاملہ ہے تاہم برطانوی حکام نے اپنے امریکی ہم منصبوں سے شام میں ترکی کے فوجی آپریشن اور اس کے نتائج پر بات چیت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں کرد فورسز کے خلاف ترک کے فوجی آپریشن کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ترکی کی وزارت دفاع نے منگل کو شمالی شام میں فوجی آپریشن کی تیاریوں کی تکمیل کا اعلان کرنے کے بعد شام میں اپنی فوج داخل کردی ہے۔ترکی کی فوج نے شام کی سرحد پر واقع اپنی یونٹوں کو مزید کمک بھیج دی ہے۔بکتر بند گاڑیوں سے لدے فوجی ٹرک اور جنوبی ترکی سے شام کی سرحد کی طرف جاتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان جوناتھن ہوفمین نے منگل کے روز کہا ہے کہ ان کے ملک نے شمالی شام میں ترک فوجی کارروائی کے ممکنہ راستے سے اپنی افواج کو دور کردیا ہے۔ جوناتھن ہوفمین نے کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گذشتہ دنوں شام میں ترکی کے ممکنہ حملے کے بارے میں سیکریٹری دفاع مارک ایسپر اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین مارک ملی سے مشاورت کی ہے۔ ہوف مین نے ایک بیان میں کہا “بدقسمتی سے ترکی نے یک طرفہ طور پر فوجی آپریشن راستہ چنا ہے۔اس کے نتیجے میں ہم نے شمالی شام میں امریکی فوجوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ترکی کے ممکنہ حملے کے راستے سے دور کردیا ہے۔ تاہم شام میں اپنی فوج کی موجودگی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی”۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا تھا کہ انہوں نے شام میں کردوں کو کسی بھی طرح تنہا نہیں چھوڑا ہے۔ٹرمپ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ٹویٹس کی ایک سیریز میں لکھا کہ ہوسکتا کہ ہم شام چھوڑ دیں مگر ہم کردوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے انہوں نے ایک دوسری ٹویٹ میں لکھا کہ “ترکی کی طرف سے کوئی بھی غیر ضروری لڑائی ان کی معیشت اور اور پہلے سے گراوٹ کا شکار ترک لیرہ کی تباہی کا موجب بنے گی۔ ہم کردوں کو مالی اور اسلحہ سے مدد کریں گے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *