شی جنپنگ کا 11-12 اکتوبر کو دورہ ہند

چین کے صدر شی جنپنگ 11 اور 12 اکتوبر کو ہندوستان میں ہوں گے ۔ وہ اپنے ہندوستانی ہم منصب نریندر مودی سے دوسری غیررسمی چوٹی ملاقات کے لئے آرہے ہیں۔ دورہ شروع ہونے سے لگ بھگ 50 گھنٹے قبل ہندوستان اور چین کی خارجہ وزارتوں نے تقریباً یکساں اعلان کیا۔ وزارت ِ خارجہ ہند نے کہا کہ دونوں قائدین باہمی ‘ علاقائی اور عالمی اہمیت کے حامل امور پر بات چیت کریں گے۔ ٹاملناڈو میں چینائی کے قریب مملاپورم میں اس غیررسمی ملاقات کا سرکاری اعلان کرنے میں تاخیر ہوئی کیونکہ چین ۔ ہند تعلقات میں کچھ تناؤ تھا۔ حکومت ہند کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کشمیر کے تعلق سے ہندوستان کا موقف نہایت واضح ہے۔ یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس پر کسی سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ صدر چین اگر دفعہ 370 کی برخواستگی کے مسئلہ کو سمجھنا چاہیں تو وزیراعظم نریندر مودی انہیں اس بابت بتائیں گے۔ لداخ کو مرکزی زیرانتظام علاقہ قراردینے پر چین کو اعتراض ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی آبادی کے مطالبہ پر ایسا کیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان سرحد میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ ذرائع نے صدر چین شی جنپنگ کے دورہ ٔ ہند سے قبل پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے دورہ ٔ چین کو باہمی معاملہ قراردیا۔ غیررسمی چوٹی ملاقات جنوبی ہند کے قدیم ساحلی ٹاؤن میں ہورہی ہے۔ یہ ملاقات امریکہ کے ساتھ چین کے بڑھتے تجارتی ٹکراؤ کے پس منظر میں ہورہی ہے۔ امکان ہے کہ دونوں قائدین تجارتی تعلقات کو بڑھاوادینے کی راہیں تلاش کریں گے۔ توقع ہے کہ ہندوستان تجارتی خسارہ کا مسئلہ اٹھائے گا کیونکہ چین کے ساتھ اس کی تجارت کا توازن چین کے حق میں زیادہ ہے۔ نئی دہلی میں سرکاری ذرائع نے بتایا کہ توقع ہے کہ شی جنپنگ جمعہ کی دوپہر چینائی پہنچیں گے۔ مودی انہیں مملاپورم کا مندر دکھانے لے جائیں گے۔ دونوں کی ملاقات اسی مقام پر ہوگی۔ شی جنپنگ کو وزیراعظم‘ مملاپورم کے اہم مقامات بھی دکھائیں گے۔بعدازاں دونوں قائدین ایک کلچر پروگرام دیکھیں گے اور ڈنر کریں گے۔ ہفتہ کے دن دونوں قائدین کی دوبدو ملاقات ہوگی جس کے بعد وفد سطح کی بات چیت بھی ہوگی۔ توقع ہے کہ صدر چین ہفتہ کے دن لگ بھگ 2 بجے چینائی سے نیپال کے لئے روانہ ہوجائیں گے۔ شی جنپنگ کے ساتھ ان کے وزیر خارجہ وانگ بھی ہوں گے جو چین کی کمیونسٹ پارٹی کے رکن ہیں۔ یو این آئی کے بموجب ہند۔ بحرالکاہل‘ دہشت گردی اور کشمیر کی صورت ِ حال پر دونوں قائدین کی بات چیت ہوسکتی ہے۔ سرکاری ذرائع نے نئی دہلی میں بتایا کہ ہند۔ بحرالکاہل مسئلہ زیربحث آئے گا۔ دفعہ 370 کے تعلق سے حکومت ہند تمام ممالک بشمول چین کو واضح طورپر بتاچکی ہے کہ یہ پوری طرح ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے۔ اس پر بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ شی جنپنگ نے اگر یہ مسئلہ اٹھایا تو ظاہر ہے مودی ہندوستان کا موقف واضح کریں گے۔ وزارت ِ خارجہ ہند نے چہارشنبہ کی صبح صدر چین کے دورہ کا اعلان کیا۔ چین کے سفیر متعینہ نئی دہلی نے بھی ٹویٹ کرکے یہی بات بتائی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں قائدین کی بات چیت کا کوئی خاص ایجنڈہ نہیں ہوگا۔ اس ملاقات کا مقصد عوام سے عوام کے رابطے بہتر بنانا ہے۔ ہندوستان نے چہارشنبہ کے دن زور دے کر کہا کہ جموں و کشمیر ‘ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور کوئی بھی ملک اس پر تبصرہ نہیں کرسکتا۔وزارت ِ خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ایک سوال کے جواب میں یہ بات کہی۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ چین کے صدر شی جنپنگ اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے غیررسمی بات چیت میں پاکستان پر اظہارخیال کیا ہے‘ اس سے تعلق سے آپ کا کیا کہنا ہے۔ وزارت ِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہندوستان کا موقف بالکل واضح ہے کہ جموں وکشمیر‘ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور چین یہ بات اچھی طرح جانتا ہے۔ دیگر ممالک کو ہندوستان کے داخلی امور پر تبصرہ نہیں کرنا چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *