عمرخالد پر حملہ کرنے والے کو ہریانہ میں شیوسینا ٹکٹ

جواہرلال نہرو یونیورسٹی طلبا یونین (جے این یو ایس یو) کے سابق قائد عمر خالد پر 2018میں حملہ کا دعویٰ کرنے والا خودساختہ گاؤرکھشک نوین دلال نئے رول میں نئے نام کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ اقدام قتل اور فساد کے الزام کا سامنے کررہے نوین دلال نے انکم ٹیکس ریٹرن کبھی بھی داخل نہیں کیا۔ وہ شیوسینا امیدوار کی حیثیت سے ہریانہ اسمبلی الیکشن لڑرہا ہے۔ ہریانہ میں رائے دہی 21 اکتوبر کو ہوگی۔ دلال کا کہنا ہے کہ وہ 6ماہ قبل شیوسینا میں شامل ہوا۔ اس نے نول نوین کے نام سے نامزدگی داخل کی اور ضلع جھجھر کے حلقہ بہادر گڑھ سے میدان میں اترا ہے۔ وہ بہادر گڑھ کے موضع منڈوتی کا رہنے والا ہے جو پہلوانوں کی نرسری کہلاتا ہے۔ 29 سالہ دلال کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور کانگریس حکومتوں نے کسانوں‘ شہیدوں ‘ گایوں اور غریبوں کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ انہیں صرف سیاست سے دلچسپی ہے۔ شیوسینا کے صدر (جنوبی ہریانہ) وکرم یادو نے کہا کہ دلال ‘ گایوں کے تحفظ کے لئے اور ملک دشمن عناصر کے خلاف الیکشن لڑرہا ہے۔ اگست 2018 میں ہریانہ کے 2 افراد نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے جے این یو ایس یو قائد عمر خالد پر حملہ کیا۔ عمر خالد پر 13 اگست کو دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب کے باہر گولی چلائی گئی تھی۔ دونوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ گاؤرکھشا گروپ کے رکن ہیں اور عمرخالد پر حملہ کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ فیس بک پر ویڈیو میں جھجھر کے دلال اور جند کے درویش شاہ پور نے دعویٰ کیا تھا کہ عمر خالد پر حملہ ہندوستان کو یوم آزادی پر ان کا تحفہ ہے ۔ دلال نے اپنے الیکشن حلف نامہ میں خود کو انڈر گریجویٹ اور کاشتکار بتایا ہے۔ اس نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ اس کے خلاف 3 فوجداری کیسس ہیں۔ ایک کیس بہادر گڑھ کی عدالت میں ہے اور دیگر 2 کیس دہلی کے پٹیالہ ہاؤز کورٹ میں ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *