عثمانیہ ہاسپٹل کی قدیم عمارت کی تزئین نو‘19کروڑ منظور

عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی قدیم عمارت کی تزین نوکے لئے اس خوبصورت عمارت میں زیر علاج مریضوںکودواخانہ سے متصل مختلف چار بلاکس میں منتقل کیاجارہا ہے ۔ قدیم عمارت کے مختلف شعبوں میں زیرعلاج تقریباً 589 مریضوں کوقلی قطب شاہ بلاک ‘ آوٹ پیشنٹ بلاک ‘ہاوز سرجن کوآرٹرس اور قدیم آوٹ پیشنٹ بلاک میں منتقل کرنے کی کاروائی کاآغاز کردیاگیا ہے ۔ واضح رہے کہ چیف منسٹرکے چندرشیکھررائو نے 2015 میں عثمانیہ دواخانہ کی عمارت کامعائنہ کرتے ہوئے اس صدسالہ قدیم عمارت کو مخدوش اورناقابل استعمال قرار دیاتھا اور اعلان کیاتھا کہ اس قدیم عمارت کومنہدم کرکے اس جگہ نئی عمارت تعمیر کی جائے گی ۔تاہم چیف منسٹر کے اس اعلان کے بعدمختلف گوشوںسے شدید مخالفت شروع ہوگئی ۔ جس کے بعدچیف منسٹر کواپنے فیصلہ پر نظرثانی کرناپڑا تھا۔اب جبکہ حکومت نے عمارت کی خستہ حالت کو دیکھ کر اس کی تزین نواورتعمیر ومرمت کا فیصلہ کیا اور اس کیلئے 19کروڑ روپے منظور کئے ۔بوسیدہ عمارت کودیکھ کر اس سے قبل بھی مریضوںکوگورنمنٹ میٹرنیٹی ہاسپٹل پٹلہ برج اور گورنمنٹ میٹرنیٹی ہاسپٹل کوٹھی میں منتقل کرنے کافیصلہ کیاگیاتھا تاہم دواخانہ کے ہی ڈاکٹروں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں مریضوںکی تشخیص وعلاج کیلئے انہیں ایک دواخانہ سے دوسرے دواخانہ آنے جانے میں مشکلات پیش آئیں گی اوران دواخانوں میں مریضوںکے علاج اورآپریشن کے لئے وہ سہولتیں موجودنہیں ہیں جو عثمانیہ دواخانہ میں دستیاب ہیں۔ چنانچہ اس فیصلہ کوبھی ملتوی کردیاگیاتھا۔ آرایم او ڈاکٹر محمد رفیع نے بتایا کہ حکومت نے عثمانیہ دواخانہ کی قدیم عمارت کی تزئین نوکافیصلہ کیاہے ۔ اس سلسلہ میں قدیم عمارت سے مریضوں کی منتقلی کاآغاز کردیاگیا ہے ۔ فی الفور عثمانیہ دواخانہ کے مختلف شعبوں میں حیدرآباد ‘سکندرآباد کے علاوہ اضلاع کے پانچ سوسے زائد مریض زیرعلاج ہیں جنہیں عثمانیہ دواخانہ سے متصل مختلف چاربلاکس میں منتقل کیاجارہا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ اس منتقلی کے عمل سے مریضوںکے علاج میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی ۔ ڈاکٹرس اور اسٹاف کومذکورہ بلاکس میں تمام سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ بہت جلد قدیم عمارت کی تزئین نوکاکام شروع کردیا جائے گا ۔یہاں اس بات کاتذکرہ ضروری ہے کہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کو1866 میں نواب میر یوسف علی خاں سالارجنگ سوم نے قائم کیا تھا۔ یہ ہاسپٹل سابق میں شہرکی مختلف عمارتوں میں قائم رہا تاہم نظام ہفتم نواب میر عثمان علی خان نے 1910میں افضل گنج میں موسیٰ ندی کے کنارے عثمانیہ دواخانہ کی عمارت کا سنگ بنیادرکھا۔ 20 لاکھ روپیہ کی لاگت سے اس کی شاندار عمارت کی تعمیر 1919میں مکمل کی گئی ۔1926 میں 1168 بستروںپرمشتمل عثمانیہ دواخانہ کواس نئی عمارت میں منتقل کیاگیا ۔ ڈاکٹریوسف مرزا اس کے پہلے آرایم اوتھے ۔ ڈاکٹرکے گوپال رائو ڈاکٹروں کی ٹیم میں شامل تھے ۔ عثمانیہ دواخانہ میں حیدرآباد اور سکندرآباد کے علاوہ تلنگانہ اور آندھرا کے اضلاع کے علاوہ پڑوسی ریاستوں کرناٹک اور مہاراشٹرا کے مریض بھی علاج کیلئے یہاں آتے ہیں۔ اس قدیم دواخانہ میں زیرعلاج مریضوںکا مفت علاج اور شریک دواخانہ مریضوںکیلئے تین وقت کا کھانا فراہم کیا جاتاہے ۔ یہ سلسلہ نظام دکن نواب میر عثمان علی خان کے دور سے جاری ہے ۔ غریب عوام کے لئے یہ ہاسپٹل ایک نعمت سے کم نہیں ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *