ٹی آرایس رکن اسمبلی سی ایچ رمیش کی شہریت منسوخ

مرکزی حکومت نے ٹی آرایس کے رکن اسمبلی سی ایچ رمیش( ویملواڑہ) کی ہندوستانی شہریت منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سی ایچ رمیش پرفرضی دستاویزات پیش کرنے اور ہندوستان میں مدت سے زیادہ قیام کرنے کے الزامات عائد کئے گئے تھے ۔ مرکزی وزارت داخلہ نے سی ایچ رمیش کوقوانین کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں ہندوستانی منسوخ کرنے اوربطوررکن اسمبلی انہیں کسی بھی طرح کے اختیارات رکھنے سے باز رہنے کی ہدایت دی ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے کہاگیاکہ سی ایچ رمیش ‘جرمن ویزا بحال کرنے میں ناکام رہے اور انہیں ہندوستان میں قیام کیلئے نیاویزا حاصل کرنے کامشورہ دیا۔یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے ایک قائد نے سی ایچ رمیش پر غیرملکی ہونے کا الزام لگاتے ہوئے ان کی رکنیت اسمبلی وشہریت برخواست کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت سے رجوع ہوئے تھے ۔ عدالت کی جانب سے اس عرضی کی سماعت کے دوران مشورہ دیاگیا تھا کہ مرکزی وزارت داخلہ ہی اس مسئلہ کاحل دریافت کرسکتی ہے ۔آج مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے سی ایچ رمیش کی ہندوستانی شہریت برخواست کرنے کااعلان کیاگیا اور رمیش پر حقائق کوچھپانے ‘ دروغ گوئی سے کام لینے اورحکومت ہندکوگمراہ کرنے کاالزام عائد کیا گیاہے ۔ مرکزی امورداخلہ نے آج یہ کہتے ہوئے تلنگانہ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر سی رمیش کی ہندوستانی شہریت منسوخ کردی کہ رمیش نے ہندوستانی شہرت کے حصول کیلئے درخواست کے ادخال کے فوری بعد12 ماہ کے بیرونی دورہ کی تفصیلات کوچھپائے رکھا تھا ۔ مرکزی وزارت داخلہ کے فیصلہ کے بعد ٹی آرایس رکن اسمبلی ویملواڑہ رمیش نے کہاکہ وہ دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوں گے جہاں وہ مرکزی حکومت کے فیصلہ کوچیالنج کریںگے ۔ انہوںنے اس یقین کااظہار کیا کہ عدالت سے انہیں مکمل انصاف ملے گا۔ مرکزی حکومت کے فیصلہ کے بعد سی ایچ رمیش نے کہاکہ وزارت داخلہ نے ہائی کورٹ کے احکام کونظرانداز کرتے ہوئے ان کی شہریت منسوخ کرنے کافیصلہ کیاہے ۔ ہندوستانی شہریت کے حصول کے لئے وہ ایک بارپھر ہائی کورٹ سے رجوع ہوں گے ۔ 2017 میں بی جے پی کے ایک قائد کی شکایت پر وزارت داخلہ نے رمیش کی شہریت منسوخ کردی تھی ۔بی جے پی قائد نے اپنی شکایت میں یہ دعویٰ کیاتھا کہ رمیش ‘جرمنی کے شہری ہیں۔انہوںنے کہاکہ وہ دوبارہ عدالت العالیہ سے رجوع ہوںگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *