گورنر‘ آرٹی سی ہڑتال کو ختم کرانے مداخلت کریں

مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن قائدین نے آج راج بھون پہنچ کر ریاستی گورنر ڈاکٹر ٹی سوندراراجن سے ملاقات کی اور انہیں ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے ان سے ٹی ایس آرٹی سی ملازمین کی جاری ہڑتال کو ختم کرانے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ آرٹی سی ملازمین 5اکتوبرسے ہڑتال کررہے ہیں ۔ بعدازاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بی جے پی قائد موہن ریڈی نے کہا کہ اپوزیشن قائدین نے گورنر راجن سے خواہش کی ہے کہ وہ آرٹی سی کے ملازمین کی ہڑتال ختم کرانے کے لئے مداخلت کریں۔ وفد نے گورنر کو بتایاکہ ہائیکورٹ نے حکومت سے کئی بار یہ کہا ہے کہ وہ ملازمین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اس تعطل کو ختم کرے۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو اس مسئلہ کا واقعی حل دریافت کرنے میں دلچسپی نہیں ہے اور حکومت نے آرٹی سی یونین قائدین کو ملاقات کیلئے مدعو نہیںکیا ہے۔ ملازمین ، آرٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے کامطالبہ کررہے ہیں ، ان قائدین نے کہا کہ وہ اس مسئلہ پر مرکزی حکومت سے بھی نمائندگی کریں گے۔ کانگریس قائد ڈاکٹر جے گیتا ریڈی نے کہا کہ گذشتہ 46 دنوں سے آرٹی سی ملازمین ہڑتال پر ہیں۔ حکومت نے اس مسئلہ کی یکسوئی کے لئے نہ تو پہل کی ہے اور نہ ہی ملازمین کو مذاکرات کے لئے مدعو کیا ہے۔ سی پی آئی قائد چاڈا وینکٹ ریڈی نے کہا کہ گورنر سے ملاقات کے لئے وقت لینا سہل اور آسان ہے مگر چیف منسٹر کے سی آر کے پاس کسی سے ملاقات کے لئے وقت ہی نہیں ہے۔ کے سی آر سے ملاقات کے لئے وقت لینا بہت مشکل ہے۔ انہوں نے گورنر ٹی سوندرا راجن سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آرٹی سی ملازمین سے بات چیت کریں اور ان کے مسائل کو حل کرانے کے لئے قدم اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ آرٹی سی ملازمین کی ہڑتال کے مسئلہ پر بہت جلد مرکزی حکومت سے بھی نمائندگی کریں گے۔ تلنگانہ جن سمیتی کے سربراہ پروفیسر کودنڈارام نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندرشیکھرراؤ ، عام آدمی سے ملاقات کرنا خلاف شان سمجھتے ہیں۔ اسی لئے تمام اپوزیشن قائدین راج بھون آئے ہیں تاکہ آرٹی سی ملازمین کو درپیش مشکلات ومصائب سے گورنر کو واقف کراسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہائیکورٹ نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان ملازمین کو ڈیوٹی پر آنے کی اجازت دے جو فرائض انجام دیناچاہتے ہیں۔ ہائیکورٹ نے واضح کہہ دیا ہے کہ ہڑتال کو غیرقانونی قرارنہیں دیاجاسکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *