دشمنی کے نتیجہ میں شمالی کوریا بہت کچھ کھودے گا :ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کو دھمکی دی ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا’’کم جونگ ان، باز آ جاؤ ورنہ سب کچھ کھو دو گے‘‘۔شمالی کوریا نے گذشتہ روز سوہائے خلائی مرکز سے نامعلوم تجربہ کیا جس کی اطلاع شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے دی۔ اس پر صدر ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ’’کم جونگ اْن، بہت اسمارٹ بنتے ہیں، انہیں اسی حساب سے بہت کچھ کھونا پڑے گا۔ اگر وہ یہی طرز عمل جاری رکھتے ہیں تو وہ ہر چیز کھو دیں گے۔ ‘‘واضح رہے کہ امریکی صدر اس سے قبل شمالی کورین رہنما کم جونگ ان’کو راکٹ مین‘ جیسیالقابات سے پکارتے رہے ہیں جس پر شمالی کوریا سے سخت ردعمل دیا جاتا رہا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے غیر سفارتی زبان اب ایک مرتبہ پھر استعمال کی ہے۔علحدہ موصولہ اطلاع کے بموجب امریکہ کے صدرٹرمپ نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جانب اُن کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے امریکہ کے ساتھ دشمنی کا رویہ تبدیل نہ کیا تو وہ ہر چیز کھو بیٹھیں گے۔شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کورین سینٹرل نیوز ایجنسی نے ہفتے کو اپنی ایک رپورٹ میں ‘انتہائی اہم تجربہ’ کرنے کا اعلان کیا تھا۔شمالی کوریا کے اقدام پر صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ کم جانگ ان بہت سمجھدار ہیں اور ان کے پاس کھونے کو بھی بہت کچھ ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ کم جانگ ان نے میرے ساتھ سنگاپور میں جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے معاہدہ پر دستخط کئے ہیں۔ ان کی قیادت میں شمالی کوریا زبردست معاشی صلاحیت رکھتا ہے لیکن انہیں وعدے کے مطابق جوہری ہتھیاروں سے پاک ہونا ہوگا۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے معاملے پر مغربی ملکوں کے اتحاد نیٹو، چین، روس، جاپان سمیت پوری دنیا متحد ہے۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اور کم جانگ ان کی 2018 میں سنگاپور میں ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد سے دونوں رہنما تین ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ اس سے قبل 2017 میں دونوں رہنماوؤں کے درمیان نوک جھونک رہی تھی۔شمالی کوریا نے حال ہی میں امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان فوجی مشقوں کے انعقاد کے نتیجے میں جوہری ہتھیاروں کی تخفیف سے متعلق مذاکرات معطل کر دیئے تھے۔پیانگ یانگ نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے واشنگٹن کو 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے اور حال ہی میں شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ دشمنی پر مبنی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے اور امریکہ فیصلہ کر لے کہ اسے کرسمس پر کیا تحفہ چاہیے۔جنوبی کوریا کے صدر مون جی ان نے ہفتے کو صدر ٹرمپ کو فون کیا تھا جس کے دوران دونوں قائدین نے شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔دونوں قائدین کے درمیان 30 منٹ تک گفتگو ہوئی۔ شمالی کوریا کے صدر کا امریکی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ رواں سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی ملاقات کے بعد پہلا رابطہ ہے۔دوسری جانب امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرین نے سی بی ایس ٹی وی کے پروگرام ‘فیس دی نیشن’ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ شمالی کوریا جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ایک غلطی کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کم جانگ ان نے جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کا وعدہ کیا ہے اور ہمیں توقع ہے کہ سنگاپور میں ہونے والے معاہدے کی وہ پاسداری کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *