عصمت ریزی کے واقعات پر مودی خاموش کیوں؟راہول گاندھی کا سوال

سابق صدر کانگریس راہول گاندھی نے پیر کے دن وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کی کہ وہ ملک میں عصمت ریزی کے واقعات پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ جھارکھنڈ کے ضلع ہزاری باغ کے برکا گاؤں میں الیکشن ریالی سے خطاب میں راہول گاندھی نے کہا کہ ہندوستان ‘ دنیا کا ریپ کیپٹل بن گیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی‘ عصمت ریزی کے واقعات پر چُپ ہیں۔ اترپردیش میں ان کا ایک رکن اسمبلی ‘ عصمت ریزی کا ملزم ہے۔ اس پر بھی مودی کی خاموشی جاری ہے۔ ملک میں عورتوں کو جلایا جارہا ہے‘ گولی ماری جارہی ہے‘ عصمت دری کی جارہی ہے لیکن مودی چپ ہیں۔ برکا گاؤں میں 2 سال قبل ریاستی حکومت کی طرف سے حصول ِ اراضی کے خلاف احتجاج میں 5 کسان مارے گئے تھے۔ کانگریس قائد نے کہا کہ عورتوں اور کسانوں پر گولیاں چل رہی ہیں۔ عورتیں ڈر کے مارے اپنے گھروں سے باہر قدم نہیں رکھ سکتیں۔ مودی ‘ کسانوں کو بچانے کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ کسانوں کی زمین چھینی جارہی ہے۔ کسان جب احتجاج کرتے ہیں تو انہیں مار ڈالا جاتا ہے۔ ہم نے کسانوں کی زمین کی حفاظت کرنے حصول اراضی قانون لایا تھا جس کی رو سے کسانوں کی زمین ‘ پنچایت کی اجازت کے بغیر نہیں لی جاسکتی لیکن مودی اس کے خلاف ہیں۔ وہ اپنے چیف منسٹر سے کہتے ہیں کہ یہ قانون لاگو مت کرو۔ مودی‘ کرپشن کے خلاف لڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان کا چیف منسٹر جھارکھنڈ انتہائی بدعنوان سیاستداں ہے۔ راہول گاندھی نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے سیاسی مسائل پر بھی مودی کو نشانہ تنقید بنایا۔ کانگریس قائد نے کہا کہ ٹی وی پر مودی کا چہرہ اس لئے دکھایا جاتا ہے کہ آپ کا(عوام کا) پیسہ اڈانی اور امبانی کو دیا جارہا ہے۔ آپ نے مودی کو کبھی کسانوں یا غریبوں کو گلے لگاتے دیکھا؟ صنعتکاروں کو گلے لگاتے ضرور دیکھا۔ یہ حکومت صرف 10 تا 15 صنعتکاروں کے لئے چل رہی ہے۔ عوامی شعبے کے ادارے اِن کمپنیو ںکو دیئے جارہے ہیں۔ مرکز‘ سرکاری ملازمین کی پنشن برخواست کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے دور میں معیشت فروغ پارہی تھی۔ دنیا‘ ہندوستان سے سیکھتی تھی۔ مودی حکومت میں ملک کی معیشت برباد ہوگئی۔ ملک میں نفرت کا ماحول ہے۔ مودی حکومت‘ امیروں کا قرض معاف کررہی ہے اور کسانوں و غریبوں کو نظرانداز کررہی ہے۔ اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ملک میں 2 پیمانے نہیں ہوسکتے۔ راہول گاندھی نے وعدہ کیا کہ جھارکھنڈ میں کانگریس کے برسراقتدار آنے پر دھان کی اقل ترین امدادی قیمت (ایم ایس پی) موجودہ 1300 روپے سے بڑھاکر 2500 روپے فی کنٹل کردی جائے گی۔ 2لاکھ تک کا قرض معاف کردیا جائے گا اور پسماندہ ذاتوں کے لئے 27 فیصد ریزرویشن پر عمل ہوگا۔ انہوں نے جھارکھنڈ میں حصول ِ اراضی قانون لاگو کرنے کا بھی وعدہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *