جامعہ ملیہ میں پولیس کی مبینہ زیادتیوں کا ایک اور ویڈیو وائرل

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس کی مبینہ وحشیانہ زیادیتوں کا ایک اور ویڈیو منظر عام پر آیا ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اُبھرے تمام ویڈیو تراشوں کا جائزہ لینے کے بعد مذکورہ مبینہ زیادتیوں کے موجب ٹھیک ٹھیک حالات کا تعین کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ تازہ ویڈیو میں پولیس کو طلباء پر لاٹھیاں برساتے ہوئے اور طلباء کو بچنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھاجاسکتا ہے۔ خاتون طالبات کو باہر نکلتے ہوئے اور پولیس سے التجاء کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک پولیس جوان کو ایک کیمرہ توڑتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ تاہم پولیس نے بتایاکہ مناسب تحقیقات کے بغیر کسی کو بے قصور قراردینا مناسب نہیں ہوگا۔ جامعہ ملیہ کیمپس میں تشدد کا واقعہ گذشتہ 15 دسمبر کو پیش آیا تھا۔ قبل ازیں اِس تعلق سے 3 ویڈیوز آن لائن اُبھرے۔ایک ویڈیو میں نیم فوجی عملہ اور پولیس کو مبینہ طورپرلائبریری میں طلباء کو مار پیٹ کرتے دکھایاگیا ہے۔ چند گھنٹوں بعد مزید 2 ویڈیوز منظر عام پر آئے جن میں بعض نوجوانوں کو ‘ جن کے چہرے ڈھنکے ہوئے تھے لائبریری میں دکھایاگیا ہے۔ اسپیشل کمشنر آف پولیس( کرائم برانچ) پروین رنجن نے بتایاکہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم( ایس آئی ٹی) ‘ گذشتہ 15دسمبر کو ہوئے تشدد کی تحقیقات کررہی ہے اور یہ ٹیم تمام ویڈیو کلپس کا تجزیہ کرے گی تاکہ تشدد کے مذکورہ واقعہ کی ٹھیک وجوہات معلوم ہوں۔اسپیشل کمشنر نے کہاکہ ’’ مذکورہ واقعہ کی وجوہات کا‘ ایک بار پتہ چل جانے کے بعد ہم اُن تمام افراد کی شناخت کریں گے جو تشدد میں ملوث تھے اور قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی ۔لیکن محض سوشل میڈیا پر پیش کردہ ویڈیوز کو دیکھتے ہوئے موجودہ مرحلہ پر یہ کہنا نامناسب ہوگا کہ اُس وقت جامعہ ملیہ کیمپس کے اندر موجود افراد یا جامعہ کی لائبریری میں موجود افراد بے قصور تھے‘‘۔ اسی دوران جامعہ کوآرڈنیشن کمیٹی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تازہ ترین ویڈیو یا ایسا کوئی دوسرا فوٹیج اُس کے قبضہ میں نہیں ہے کیونکہ اڈمنسٹریشن نے ایسے ویڈیو یا پھر فوٹیج تک اُس کو رسائی دینے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ سرکاری چینلوں کے ذریعہ رسائی حاصل ہونے پر نظم ونسق‘ متعلقہ فوٹیج کو متعلقہ افراد کے ساتھ شیئر کرے گا۔ جامعہ رابطہ کمیٹی کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ ویڈیوز میں جو طلباء دیکھے گئے ہیں وہ گذشتہ 2 مہینوں میں کئی مراحل سے گزرے ہیں۔ اہانت‘ تکلیف اور خوف‘ اُن کے ذہنوں میں ہنوز تازہ ہے۔ مذکورہ ویڈیوز میں کئی طلباء کو خوف ودہشت کے عالم میں اور نفسیاتی مدد حاصل کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ مذکورہ تاریخ( گذشتہ 15دسمبر کو)ایک طالبعلم کے والد نے جو لائبریری میں موجود تھے‘ کہاکہ پولیس نے اُن طلباء پر بید چارج کیا جو بچ کر جانے کی کوشش کررہے تھے۔ مذکورہ شخص نے بتایاکہ ’’ میرا فرزند بھی اِن طلباء میں شامل تھا جو بچ کر لائبریری کے باہر جانے کی کوشش کررہے تھے۔ پولیس اور سی آر پی ایف نے طلباء پر بید چارج کیااور میرے بیٹے کے پیروں پر زخم آئے۔ وہ ہنوز صحت یاب ہورہا ہے‘‘۔ محمد منہاج الدین نامی ایک طالبعلم‘ پولیس کاروائی کے سبب اپنی ایک آنکھ کی بصارت سے محروم ہوگیا۔اِس طالبعلم نے بتایاکہ آنسو گیس شل کے اثر سے بچنے طلبائ‘اپنے چہروں پر دستیاں باندھے ہوئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *