لاگ ڈاون سے سنگین انسانی المیہ کا اندیشہ

بائیں بازوں کی جماعتوں نے کورونا سے نمٹنے کے لئے حکومت کی ناکامی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاون تو کیا گیا لیکن حکومت غریبوں کے لئے معاشی امداد کا اعلان کیوں نہیں کررہی ہے۔ وزیر اعظم کے نام ایک مکتوب جاری کرتے ہوئے سی پی ایم کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے کہا کہ غریبوں کی مدد کے لئے حکومت کوئی اقدام نہیں کررہی ہے۔ لاک ڈاون کے نتیجہ میں سب سے زیادہ غریب طبقہ متاثر ہوا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں نقل مکانی کرنے والے یومیہ مزدور بے سہارا بن گئے ہیں اور اب وہ فاقہ کشی کا شکار ہورہے ہیں۔ ضرورتمندوں کے لئے حکومت نے ابھی تک کوئی ریلیف پیکیج کا اعلان نہیں کیا۔ شہری علاقوں میں لاکھوں افراد جو مزدوری پرگزر بسر کرتے ہیں پھنس گئے ہیں۔ وہ محفوظ مقامات پر کس طرح پہنچائے جائیں گے۔ کھانے پینے کا سامان انہیں میسر نہیں ہے۔ اس پر ستم یہ ہے کہ وہ پولیس کی ہراسانی کا شکار ہورہے ہیں۔ سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے کہا کہ اس وباء کے خلاف لڑائی لڑنا حکومت کے لئے بڑی آزمائش ہے۔ بڑے پیمانے پر شہریوں کی طبی جانچ کئے جانے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے معاشی پیکیج کے اعلان کے بغیر لاک ڈاون کا فیصلہ کیا۔ اس کے نتیجہ میں کروڑوں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔ اس وباء کے خلاف لڑائی کے لئے شہریوں میں قوت مدافعت کا ہونا ضروری ہے اس کے لئے تغذیہ بخش غذائیں اور دوائیں ضروری ہیں۔ مودی حکومت کے بلند بانگ دعوں کے باوجود ہندوستان فاقہ کشی کے شکار 117 ممالک کی فہرست میں 102 مقام پر ہے۔ اِن حالات میں اگر لاگ ڈاون کیا جاتا ہے تو کوروناوائرس سے زیادہ جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *