کابل میں گردوارہ پر حملہ‘ 25 سکھ ہلاک

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے قلب میں چہارشنبہ کے دن بھاری اسلحہ سے لیس بندوق برداروںاور خودکش بمباروں نے ایک سکھ گردوارہ پر حملہ کردیا۔ کم ازکم 25 سکھ ہلاک اور 8 دیگر زخمی ہوگئے۔ جنگ زدہ ملک میں اقلیتی فرقہ پر یہ ایک ہلاکت خیز ترین حملہ ہے۔ بندوق برداروں نے شور بازار علاقہ میں واقع گردوارہ پر مقامی وقت کے مطابق صبح لگ بھگ 7:45 بجے حملہ کیا۔ اُس وقت عمارت کے اندر 150 سکھ موجود تھے۔ حکام نے یہ بات بتائی۔ ٹولو نیوز نے وزارت ِ داخلہ کے حوالہ سے اطلاع دی کہ دھرم شالہ پر حملہ میں کم ازکم 25 افراد ہلاک اور 8 دیگر زخمی ہوگئے۔ دھرم شالہ پر حملہ کرنے والے تمام 4 خودکش بمبار مارے گئے۔ لگ بھگ 6 گھنٹے تک لڑائی جاری رہی۔ افغان اسپیشل فورسس نے اس کی توثیق کی۔ وزارت ِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ 80 افراد بشمول عورتوں اور بچوں کو گردوارہ سے بچالیا گیا۔ سابق صدر افغانستان حامد کرزئی نے سکھ عبادت گاہ پر حملہ کی سخت مذمت کی۔ دہشت گرد گروپ اسلامک اسٹیٹ(آئی ایس آئی ایس) نے حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی۔ یہ گروپ سابق میں بھی افغانستان میں سکھوں کو نشانہ بناچکا ہے۔ اس نے بیان جاری کرکے توثیق کی کہ اس کے آدمیوں نے کابل شہر میں سکھوں پر حملہ کیا۔ خامہ پریس نیوز ایجنسی نے یہ اطلاع دی۔ مقام ِ دھماکہ کی تصاویر میں دکھایاگیا کہ سیکوریٹی فورسس‘ زخمیوں کو اسٹریچر پر ڈال کر لے جارہی ہیں۔ افغان میڈیا نے ویڈیوز دکھائے کہ متاثرین کے اہل ِ خانہ شہر کے ایک ہسپتال کے باہر رورہے ہیں۔ کابل میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے گردوارہ سے 11 بچوں کو بچالیا۔ سکھ قانون ساز نریندر سنگھ خالصہ نے مقام ِ حملہ کے قریب اخباری نمائندوں سے کہاکہ حملہ کے وقت گردوارہ کے اندر 150 لوگ عبادت کررہے تھے۔ خالصہ ‘ افغانستان میں سکھ فرقہ کے واحد نمائندہ ہیں۔ انہوںنے کہا کہ گردوارہ کے اندر سے کسی نے انہیں فون کرکے حملہ کی اطلاع دی۔ وہ دوڑے چلے آئے۔ انہوں نے کہا کہ حملہ کے وقت گردوارہ کے اندر لگ بھگ 150 لوگ رہے ہوں گے۔ سرکاری بختیار نیوز ایجنسی نے یہ اطلاع دی۔ وزارت ِ داخلہ کے ترجمان طارق اریان نے کہا کہ افغان فورسس نے سکھ گردوارہ کی پہلی منزل خالی کرالی ہے۔ عمارت کے اندر پھنسے کئی لوگوں کو بچالیا گیا۔ جنگ زدہ افغانستان میں ان دنوں سیاسی تعطل جاری ہے۔ دو سیاستداں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کا دعویٰ ہے کہ دونوں نے صدارتی الیکشن جیتا ہے۔ امریکہ ‘ افغانستان سے اپنی فوج نکالنا چاہتا ہے۔ وہ تعطل ختم کرنے کی کوشش میں ہے۔ وہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے ساتھ تاریخی معاملت کرچکا ہے تاکہ افغانستان میں امن کی راہ ہموار ہوجائے۔ آج کے حملہ سے ایک دن قبل امریکہ نے کہا تھا کہ وہ افغان حکومت کی امداد گھٹادے گا کیونکہ وہ مایوس ہے کہ سیاسی قائدین متحد نہیں ہورہے ہیں اور طالبان سے بات چیت کے لئے ٹیم نہیں بنارہے ہیں۔ منگل کے دن ہی امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو ‘ کابل آئے تھے۔ انہوں نے صدر اشرف غنی اور ان کے حریف عبداللہ عبداللہ کے درمیان تعطل دور کرنے کی کوشش کی۔ جولائی 2018 میں آئی ایس آئی ایس کے دہشت گردوں نے مشرقی شہر جلال آباد میں سکھوں اور ہندوؤں کے ایک اجتماع کو نشانہ بنایا تھا۔ اُس وقت 19 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے تھے۔ افغانستان کے مشہور سکھ سیاستداں اوتار سنگھ خالصہ اس حملہ میں مارے گئے تھے۔ آئی اے این ایس کے بموجب وزارت ِ داخلہ کے ترجمان طارق اریان نے ای ایف ای کو بتایا کہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح لگ بھگ 7:45 بجے ہوا۔ کسی بھی شورش پسند گروپ نے حملہ کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔ طالبان عسکریت پسند گروپ نے خود کو لاتعلق کرلیا ہے۔ اس کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹویٹر پر لکھا کہ شہر کابل کے شور بازار علاقہ میں آج کے حملہ سے مجاہدین امارات ِ اسلامیہ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ طالبان خود کو اسی نام سے متعارف کراتے ہیں۔ مسلم اکثریتی ملک افغانستان میں مذہبی اقلیتیں ‘ اسلامی انتہاپسند گروپس کا اکثر نشانہ بنتی رہتی ہیں۔ 2018 میں اسلامک اسٹیٹ کے خودکش بمباروں نے سکھوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا تھا اور 19 افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ جلال آباد میں اس حملہ میں سکھ رہنما اوتار سنگھ خالصہ کی بھی ہلاکت ہوئی تھی۔ اوتار سنگھ خالصہ نے پارلیمانی الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا اور وہ اپنے فرقہ کے دیگر ارکان کے ساتھ افغان صدر اشرف غنی سے ملنے جلال آباد آئے ہوئے تھے۔ افغانستان میں 40 برس کے مسلح ٹکراؤ کے نتیجہ میں ہزاروں ہندو اور سکھوں نے دیگر ممالک بالخصوص ہندوستان میں پناہ لے لی۔ افغانستان میں 30 سال قبل سکھوں کی تعداد 2 لاکھ تھی جو تشدد اور سماجی و مذہبی تعصب کی وجہ سے گھٹ کر آج 1500 کے آس پاس ہوگئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *