انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے نماز باجماعت منسوخ کردیں:جامعہ ازہر کا فتویٰ

پاکستانی صدر ڈاکٹر عارف علوی کی درخواست پر ایک سرکردہ عالمی دینی ادارہ نے فتویٰ جاری کیا ہے جس کے تحت کورونا وائرس کی وباء کے پیش نظر سربراہ ِ مملکت کو نماز جمعہ معطل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ مصر کی جامعہ الازہر کے مفتی اعظم اور سپریم کونسل کی جانب سے چہارشنبہ کو جاری کردہ فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ عوامی اجتماعات جن میں مساجد میں نماز کے اجتماعات بھی شامل ہیں‘ ان کی وجہ سے کورونا وائرس پھیل سکتا ہے۔ لہٰذا مسلم ممالک کی حکومتوں کو ایسے اجتماعات کو منسوخ کرنے کا پورا اختیار حاصل ہے۔ صدر پاکستان نے ٹویٹر پر کہا کہ میں جامعہ الازہر کے مفتی اعظم اور سپریم کونسل کا مشکور ہوں کہ انہوں نے کورونا وائرس کے حملہ کے دوران مساجد میں فرض جماعت اور نماز جمعہ سے متعلق میری شخصی درخواست پر ہمیں رہنمائی فراہم کی ہے۔ علوی نے پاکستانی علماء سے کہا کہ وہ قرآن و سنت کے مطابق اسلامی اصولوں پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے نماز جمعہ کو منسوخ کرنا اسلامی عمل ہے۔ اخبار دی نیوز نے یہ اطلاع دی۔ علوی نے بتایا کہ نماز ِ باجماعت کو روکنے والے ممالک میں متحدہ عرب امارات‘ سعودی عرب‘ ایران‘ الجیریا‘ تیونس‘ اردن‘ کویت ‘ فلسطین‘ ترکی‘ شام ‘ لبنان اور مصر شامل ہیں۔ فتویٰ کے مطابق سربراہ ِ مملکت ‘ ملک بھر میں نماز ِ باجماعت بشمول نماز جمعہ اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کرسکتے ہیں۔ فتویٰ میںمعمر افراد سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ گھر کے اندر ہی رہیں اور جماعت میں شریک نہ ہوں کیونکہ ایسے اجتماعات سے وائرس پھیل سکتا ہے۔فتویٰ میں ایک حدیث کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آفاتِ سماوی کے دوران مسلمانوں کو اپنے گھروں میں ہی نماز ادا کرنی چاہئے۔ مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ حکومت کی صحت سے متعلق ہدایات پر عمل کریں اور بحران کے دوران غیرمصدقہ معلومات و افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔ فتویٰ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسانی زندگیوں کا تحفظ اور ہر قسم کے جوکھم اور خطرات سے انہیں بچانا اسلام کے عظیم تصور کے عین مطابق ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *