سماج کے کمزور طبقات کیلئے 1,70,000کروڑ کا راحت پیکیج

کووِڈ 19 کے معاشی اثرات سے سماج کے کمزور طبقات کے تحفظ کے لئے مرکز نے آج 1,70,000 کروڑ کے راحت پیکیج کا اعلان کیا۔ وزیر فینانس نرملا سیتارمن نے راحت پیکیج کے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم غریب کلیان یوجنا سے تارک ِ وطن ورکرس ‘ دیہی غریبوں اور خواتین کو فائدہ ہوگا۔ بہرحال یہ قطعی راحت پیکیج نہیں ہے۔ انہوں نے صراحت کی کہ یہ پیکیج صرف سماج کے غریب ترین اور کمزور ترین طبقات کے لئے ہے۔ قبل ازیں حکومت سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ وہ صنعتوں کے لئے اقتصادی راحت پیکیج کا اعلان کرے گی۔ نرملا سیتارمن نے راحت اسکیم کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے ایک حصہ کے طورپر رقم راست منتقل کی جائے گی جبکہ دوسرے حصہ کے تحت غذائی سیکوریٹی سے متعلق اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بھی بھوکا رہے لہٰذا ہم ان کی دیکھ بھال کے لئے مناسب مقدار میں غذائی اجناس اور پروٹین کی ضروریات کی تکمیل کے لئے دالیں فراہم کریں گے۔ دوسری جانب انہیں رقم بھی فراہم کی جائے گی۔ راست فائدہ منتقلی کے ذریعہ انہیں رقم مہیا کرائی جائے گی تاکہ وہ خالی ہاتھ نہ رہیں۔ وزیر فینانس نے اعلانات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مرکز ‘ میڈیکل انڈسٹری کے ورکرس جیسے حفظان ِ صحت اور آشا کارکنوں ‘ نیم طبی عملہ ‘ نرسیس اور ڈاکٹروں کو جو اپنی زندگی کو خطرہ میں ڈالتے ہوئے کووِڈ19 مریضوں کا علاج کررہے ہیں‘ 50 لاکھ روپے فی کس کا میڈیکل انشورنس فراہم کرے گا۔ وزیر فینانس نے کہا کہ 80 کروڑ استفادہ کنندگان کو 3 ماہ تک اضافی 5 کیلو چاول یا گیہوں مفت دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ہر گھر کے لئے ایک کیلو دال بھی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا ’’ تمام راشن کارڈ ہولڈرس کو آئندہ 3ماہ تک 5 کیلو گیہوں یا چاول مفت فراہم کیا جائے گا۔ یہ انہیں موجودہ اسکیمات کے تحت ملنے والے گیہوں یا چاول کے علاوہ ہوگا۔ اس کے علاوہ ہر گھر کو آئندہ 3 ماہ تک ایک کیلو دال مفت فراہم کی جائے گی‘‘۔ رقم منتقلی کے تحت ڈی بی ٹی کے ذریعہ کسانوں‘ تارک ِ وطن ورکرس‘ بیواؤں‘ وظیفہ یابوں اور دیگر کو راحت فراہم کی جائے گی۔ پی ایم کسان یوجنا کے تحت 6 ہزار روپے کی پہلی سالانہ قسط ہر سال کی شروعات پر ہی دے دی جائے گی۔ کسانوں کو ان کے کھاتوں میں 2ہزار روپے فراہم کئے جائیں گے۔ اس اقدام سے فوری طورپر 8.69 کروڑ کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے بتایا کہ منریگا اجرتوں کو بھی موجودہ 182 روپے یومیہ سے بڑھاکر 202 روپے کردیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں ہمیں توقع ہے کہ ہر ورکر کو 20 روپے کی اضافی آمدنی ہوگی اور 5 کروڑ خاندانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ سیتارمن نے 3 کروڑ سینئر سٹیزنس کے کھاتوں میں بھی رقم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں موجودہ بحران سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔ اس کے مطابق ان کے کھاتوں میں ایک ہزار روپے 2 قسطوں میں منتقل کئے جائیں گے۔ علاوہ ازیں اُجولا پکوان گیس کنکشن رکھنے والی زائداز 8 کروڑ خواتین کو آئندہ 3ماہ تک مفت پکوان گیس سلنڈر حاصل ہوگا۔ 63 لاکھ خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کو دین دیال نیشنل رورل لائیولی ہُڈ مشن کے تحت 20 لاکھ روپے کا ضمانت سے پاک قرض فراہم کیا جائے گا جو موجودہ 10لاکھ روپے سے دُگنی رقم ہے۔ ایک اور راحتی اقدام میں وزیر فینانس نے اعلان کیا کہ حکومت آئندہ 3ماہ تک آجر اور ملازمین کا ای پی ایف کا 24 فیصد حصہ مکمل طورپر برداشت کرے گی۔ یہ مدد 100 ملازمین تک کے اداروں کے لئے ہوگی جن کی تنخواہیں 15 ہزار روپے ماہانہ سے کم ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *